April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sam-ware.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

امریکہ میں مزید ایک ہندوستانی طالب علم کی مشکوک حالت میں موت۔ حکام نے کسی بھی مجرمانہ سر گرمی سے انکار کیا۔ رواں سال امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کی موت میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی طلبہ مختلف امریکی ریاستوں میں مشکوک حالات میں مردہ پائے گئے۔ ہندوستانی قونصل خانے نے ایک ورچول ملاقات کے ذریعے ان سے جڑے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

Abhijeeth Paruchuru. Photo: INN

ابھیجیت پاروچورو۔ تصویر: آئی این این

 پیر کو ایک اور المناک واقعہ میں بوسٹن میں ایک ہندوستانی طالب علم کی موت ہوگئی اور ابتدائی تحقیقات میں عہدیداروں کی جانب سےکسی بھی قسم کی مجرمانہ سر گرمی کو مسترد کردیا گیا ہے۔ نیو یارک میں ہندوستان کے قونصلیٹ جنرل نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’بوسٹن میں ایک ہندوستانی طالب علم ابھیجیت پارچورو کے افسوسناک انتقال کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا۔ پارچورو کے والدین کنیکٹیکٹ میں مقیم ہیں اور سراغرسانوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں۔ قونصل خانے نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں تشدد کی کارروائی کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ 
 قونصل خانے نے کہا کہ اس نے دستاویزات اور نقل و حمل میں مدد فراہم کی۔ اس کی لاش ہندوستان میں ہے اور وہ اس معاملے میں مقامی حکام کے ساتھ ہندوستانی امریکی کمیونٹی سے بھی رابطے میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق ۲۰؍ سالہ پارچورو کی آخری رسومات ان کے آبائی شہر آندھرا پردیش میں تینالی میں پہلے ہی ادا کی جا چکی ہیں۔ امریکہ میں قائم غیر منافع بخش تنظیم ٹیم ایڈنے ان کے جسد خاکی کو ہندوستان لانے میں مدد کی تھی۔ 

امریکہ میں ہندوستانیوں پر بڑھتے حملے 
 ۲۰۲۴ءکے آغاز سے امریکہ میں ہندوستانی اور ہندوستانی نژاد طلبہ کی کم از کم نصف درجن اموات ہوچکی ہیں۔ حملوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ سماج میں تشویش کا باعث ہے۔ 
مارچ میں امرناتھ گھوش، ہندستان سے ایک ۳۴؍ سالہ تربیت یافتہ کلاسیکل ڈانسر اور واشنگٹن یونیورسٹی کے طالب علم کو سینٹ لوئس، میسوری میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ کچھی پوڈی اور بھرت ناٹیم ڈانسر گھوش اپنے رقص کے خوابوں کی پیروی کرنے کیلئے پچھلے سال مغربی بنگال سے امریکہ ہجرت کر گئے تھے۔ انہیں سینٹ لوئس اکیڈمی اور سینٹرل ویسٹ اینڈ کے پڑوس کی سرحد کے قریب کئی گولی ماری گئی۔ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ 
سمیر کامتھ پرڈیو یونیورسٹی میں ایک ۲۳؍سالہ ہندوستانی نژاد امریکی طالب علم تھا۔ ۵؍ فروری کو انڈیانا میں قدرتی تحفظ گاہ میں مردہ پایا گیا۔ 
 فروری میں ۴۱؍سالہ ہندوستانی نژاد آئی ٹی ایگزیکٹیو وویک تنیجا کو واشنگٹن میں ایک ریسٹورنٹ کے باہر حملے کے دوران جان لیوا زخم آئے، جو حالیہ مہینوں میں کسی ہندوستانی یا ہندوستانی نژاد امریکی کی ساتویں موت ہے۔ 
اس سے ایک ہفتہ قبل شکاگو میں ایک ہندوستانی طالب علم سید مظاہر علی پرلٹیروں نے حملہ کیا تھا۔ 
اس سے قبل ۲۵؍سالہ ہندوستانی طالب علم وویک سینی پر جارجیا ریاست کے شہر لیتھونیا میں ایک بے گھر نشے کے عادی شخص نے جان لیوا حملہ کیا تھا۔ 
جنوری میں ۱۹؍ سالہ شریس ریڈی بینیگر، جو لِنڈنر سکول کے طالب علم تھے۔ ریاست اوہائیو میں کاروباری اسکول میں مردہ پایا گیا۔ تاہم، مقامی حکام نےکسی بھی مجرمانہ سرگرمی کو مسترد کر دیا تھا۔ 
پرڈیو یونیورسٹی، انڈیانا میں نیل اچاریہ کے نام سے ایک اور ہندوستانی طالب علم کی شناخت ۲۸؍ جنوری کو لاپتہ ہونے کی اطلاع کے چند دن بعد ہوئی تھی۔ 
یونیورسٹی آف ایلی نوائے اربانا-شیمپین میں ۱۸؍سالہ اکول بی دھون گزشتہ ماہ ہائپوتھرمیا کی علامات کے ساتھ مردہ پایا گیا تھا۔ 

سرکاری سطح پر اقدامات
ہندوستانیوں اور ہندوستانی نژاد شخص/طلبہ پر حملوں کے سلسلہ نے واشنگٹن میں ہندوستانی سفارت خانے اور مختلف مقامات پر اس کے قونصل خانوں کے عہدیداروں کو امریکہ بھر سے ہندوستانی طلبہ کے ساتھ ایک ورچوئل بات چیت کرنے پر آمادہ کیا، جس میں طلبہ کی فلاح و بہبود کے مختلف پہلوؤں اور بڑے ڈائسپورا کے ساتھ جڑے رہنے کے طریقےپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 
انڈین اسٹوڈنٹ اسوسی ایشن کے تقریباً ۱۵۰؍ عہدیداروں اور ۹۰؍ امریکی یونیورسٹیوں کے طلبہ نے چارج ڈی افیئرز، سفیر سری پریہ رنگناتھن کی قیادت میں بات چیت میں حصہ لیا۔ اس میں اٹلانٹا، شکاگو، ہیوسٹن میں ہندوستان کے قونصل جنرلز نے بھی شرکت کی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *