April 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sam-ware.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Supreme Court
Supreme Court

اسلام آباد۔18مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایف نائن پارک اسلام آباد میں جنگلی شہتوت کے ساتھ دیگر درخت کاٹنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں درختوں کی کٹائی پر سوموٹو کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔

تحریری حکم کے مطابق آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی پر حکم امتناع برقرار رہے گا۔سپریم کورٹ نے اپنی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ 18مارچ پیر کو جاری کرتے ہوئے درالحکومت اسلام آباد میں پیپر ملبیری کے درختوں کے ساتھ دیگر درختوں کا صفایا کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔تحریری حکمنامہ کے مطابق سی ڈی اے حکام نے عدالت میں موقف اپنایا کہ پولن الرجی کا باعث بننے والے جنگلی شہتوت (پیپر ملبری )کے درخت کاٹے گئے ہیں تاہم عدالت کے تشکیل کردہ کمیشن کی رپورٹ اور جمع کردہ تصاویر کے مطابق دیگر تمام درخت بھی کاٹ دیئے گئے ہیں۔

اس انکشاف کے بعد سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو تاحکم ثانی درختوں کی کٹائی سے روکتے ہوئے اس معاملے پر 2 سابق آئی جی جنگلات کی معاونت لینے کا فیصلہ کیا ہے، آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی پر حکم امتناع برقرار رہے گا، سابق آئی جی جنگلات محمود ناصر اور غلام قادر کو معاونت کے لئے نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامہ کے مطابق سی ڈی اے نے عدالت کوآگاہ کیا کہ متنازع درختوں کی کٹائی کا ٹھیکہ ایک کنٹریکٹر کو دیا گیا تھا جبکہ سی ڈی اے کے پاس اپنے بھی 4500 مالی ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سی ڈی اے کے پاس درختوں کی کٹائی کے موزوں اوزار موجود نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *