April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sam-ware.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
تصویر بشکریہ بی بی سی
تصویر بشکریہ بی بی سی

فلپائنی پولیس نے آن لائن محبت کے جھانسے میں آنے والے سینکڑوں افراد کو ’لوو اسکیم سینٹر‘ سے بازیاب کرالیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق فلپائن کی پولیس نے جمعرات کو منیلا سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں واقع ایک اسکیم سینٹر سے آن لائن محبت کے جھانسے میں آنے والے ساڑھے 6 سو سے زائد ملکی و غیر ملکی افراد کو بازیاب کرایا ہے۔

پولیس کے مطابق بازیاب ہونے والے افراد میں 383 فلپائنی، 202 چینی جبکہ 73 دیگر غیر ملکی افراد تھے جو آن لائن محبت کے جھانسے میں آگئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’لوو اسکیم سینٹر‘ سے بازیاب ہونے والے افراد کو آن لائن محبت کے جھانسے میں پھنسا دھوکہ دہی اور مختلف جرائم پر مجبور کیا جاتا تھا۔

جنوب مشرقی ایشیا گھوٹالے کے مراکز کا مرکز بن گیا ہے جہاں گھوٹالے کرنے والے خود اکثر پھنس جاتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں پر مجبور ہوتے ہیں۔

منظم جرائم کے خلاف صدارتی کمیشن کے ترجمان ونسٹن کاسیو نے بتایا کہ یہ کارروائی ایک 30 سالہ ویتنامی شخص کی خفیہ اطلاع پر کی گئی جو گزشتہ ماہ یہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ مذکورہ شخص جنوری میں فلپائن پہنچا تھا جسے یہاں شیف کی نوکری کے بہانے لایا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ لوو اسکیم سینٹر سے 3 شاٹ گنیں، ایک 9 ایم ایم پستول، دو 38 کیلیبر ریوالور اور گولہ بارود کے 42 راؤنڈ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق اسکیم سینٹر میں یرغمال افراد کو ایک جعلی شناخت اپنا کر آن لائن فراڈ پر مجبور کیا جاتا تھا۔ یرغمال افراد اپنے شکار سے رومانوی تعلقات استوار کرکے انہیں کرپٹو کرنسی سمیت دیگر جعلی اسکیموں یا کاروبار میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرتے تھے۔

بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا دھوکہ دہی پر مبنی مختلف جرائم کا مرکز بن چکا ہے جہاں اکثر و بیشتر دوسروں کے ساتھ فراڈ کرنے والے خود پھنس جاتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں پر مجبور ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس شائع ہونے والے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر سے لاکھوں افراد کو آن لائن فراڈ اسکیمیں چلانے کے لیے جنوب مشرقی ایشیا اسمگل کیا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *