April 12, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sam-ware.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

امریکہ کے ٹائمز اسکوائر پر اسرائیلی فوج کے ذریعے فلسطینی خواتین کے قتل عام کے خلاف ترکی کی تنظیم نے مظاہرہ کا اہتمام کیا۔ مظاہرہ میں ٹائمز اسکوائر کے کھمبوں پر فلسطینی پرچم لٹاکئے گئے تھے۔ تنظیم کی نمائندہ نے فلسطینی خواتین کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا اور دنیا کی توجہ اسرائیلی جارحیت کی جانب مبذول کروائی۔

Women were protesting in Times Square. Image: X

ٹائمز اسکوائر پر خواتین احتجاج کرتے ہوئیں۔ تصویر: ایکس

ترکی کے وومن اینڈ ڈیموکریسی فاؤنڈیشن نے نیویارک کے مرکز یعنی ٹائمز اسکوائر میں اسرائیلی فوج کے ذریعے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ استنبول میں قائم فاؤنڈیشن نے امریکہ کے ٹائمز اسکوائر سے دنیا کو للکارتےہوئے ’’دلیر فلسطینی خواتین کی آواز‘‘ بلند کی۔ 
نیویارک میں فلسطینی خواتین کیلئے بین الاقوامی عوامی حمایت پروگرام کے ایک حصے کے طور پر‏ فائونڈیشن نے معلومات کی ترسیل کے اہتمام کے ذریعے اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور غزہ میں خواتین کی باعزت مزاحمت کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ مارچ کیلئے اقوام متحدہ میں پروگراموں کے ایک سلسلہ کا اہتمام کرتے ہوئے، جس میں خواتین کا عالمی دن بھی شامل ہے، فائونڈیشن نے ٹائمز اسکوائر، نیویارک میں ایک پریس کانفرنس اور تقریب کا انعقاد کیا، جس میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ 
 اسکوائر پر بورڈ کی چیئرمین صالحہ اوکر گمروکوگلو نےپریس کانفرنس کی۔ اپنے پریس بیان میں گمرکو اوگلو نے کہا کہ ’’خواتین پر ظلم بھی ناانصافی کی طرح بڑھتاجارہا ہے۔ ۹؍ ہزارسے زیادہ فلسطینی خواتین اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ فلسطینی خواتین کیلئے نیا نہیں ہے اور نہ ہی ان ہزاروں خواتین کیلئے جو دیگر جنگ اور تنازعات کے علاقوں میں پھنسی ہوئی ہیں۔‘‘

 انہوں نے مزید کہا کہ ’’تشدد سے بالاترفلسطینی خواتین کو طویل عرصے سے ایک منظم نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جو کئی نسلوں سے دنیا کے سب سے بڑے موت کے خیمہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ‘‘ `
۷؍ اکتوبر سے غزہ میں جاری وحشیانہ حملوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، فاؤنڈیشن کی صدر گمروکوگلونے کہا کہ ’’جی ہاں، ہم خوف و ہراس کے عالم میں دنیا کی بڑی تباہی کا مشاہدہ کررہےہیں۔ ‘‘ انہوں نے جاری تنازعات کے درمیان بھوک اور پیاس سے مرنے والے نوزائیدہ بچوں کی المناک حقیقت کو بھی اجاگر کیا۔ اس بات پر بھی زور دیا کہ بم دھماکوں کا اثر جسمانی تباہی سے آگے بڑھ کر انسانیت کی مشترکہ اقدار کے مرکز تک پہنچ رہا ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔ 
اندھیرے کے باوجود گمروکوگلو کو عالمی برادری کی جانب سے حملوں کی متحدہ مذمت میں امید کی کرن نظر آئیں۔ انہوں نے تمام لوگوں کے درمیان امن کی فطری خواہش کے ثبوت کے طور پر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے وسیع پیمانے پر احتجاج کی طرف اشارہ کیا اور انہیں روشن خیالی کے حقیقی علمبرداروں کے طور پرتسلیم کیا۔ 
اس تقریب میں کھمبوں سے لٹکتے فلسطینی پرچم کے رنگوں میں اسکارف دکھائے گئے جو غزہ میں ہلاک ہونے والی خواتین کی علامت ہیں۔ کھمبوں پر جہاں ا سکارف بندھے ہوئے تھے، فلسطینیوں کی روایتی دستکاری تطریز سے بنایا گیا فلسطینی پرچم فلسطینی خواتین کی مزاحمت کو ظاہر کر رہاتھا۔ 
نیویارک کے کئی باشندوں کے علاوہ ٹائمز اسکوائر آنے والے سیاح، آرتھوڈوکس یہودی جو اسرائیلی قتل عام کے خلاف اپنے مؤقف کیلئے مشہور ہیں، اور نیویارک میں خواتین کی تنظیم کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے ترک این جی او کے نمائندوں اور سیاست دانوں نے اس میں شرکت کی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *